Enflor Sachet Uses استعمالات اور فوائد (Urdu)
اینفلور ساشے آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک مفید ساشے ہے جو اسہال اور پیٹ کی خرابی میں مدد دیتا ہے۔
Enflor Sachet کے استعمالات، فوائد اور معلومات
اینفلور ساشے کے استعمالات:
- اسہال میں کمی
- سفر کے دوران اسہال سے بچاؤ
- اینٹی بایوٹک سے ہونے والا اسہال
- آنتوں کے جراثیم کا توازن بحال کرنا
- پیٹ کی خرابی میں آرام
- بدہضمی کی علامات میں کمی
- پیٹ کے انفیکشن میں مدد
- آنتوں کی کمزوری میں فائدہ
- آئی بی ایس کی علامات میں کمی
- بار بار دست روکنے میں مدد
- بچوں کے اسہال میں معاون
- بڑوں کے نظامِ ہاضمہ کی بہتری
- آنتوں کی سوزش میں کمی
- معدے کی صحت برقرار رکھنا
- مفید بیکٹیریا کی افزائش
اینفلور ساشے کیسے کام کرتا ہے؟
اینفلور ساشے میں موجود مفید خمیر آنتوں میں نقصان دہ جراثیم کے خلاف کام کرتا ہے اور آنتوں کے قدرتی جراثیمی توازن کو بحال کرتا ہے۔ اس عمل سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور اسہال کی شدت کم ہو جاتی ہے۔
اینفلور ساشے کے مضر اثرات
- ہلکی گیس
- پیٹ میں اپھارہ
- قبض (نایاب)
اینفلور ساشے کی خوراک
| مریض | خوراک |
|---|---|
| بچے | اینفلور ساشے 1 ساشے روزانہ |
| حاملہ خواتین | اینفلور ساشے ڈاکٹر کے مشورے سے |
| بالغ اور بزرگ افراد | اینفلور ساشے 1 سے 2 ساشے روزانہ |
اینفلور ساشے کی احتیاطی تدابیر
- اینفلور ساشے اینٹی فنگل دواؤں کے ساتھ استعمال نہ کریں۔
- کمزور مدافعتی نظام والے مریض اینفلور ساشے احتیاط سے استعمال کریں۔
- سینٹرل وینس کیتھیٹر والے مریض اینفلور ساشے ڈاکٹر کے مشورے سے لیں۔
- اینفلور ساشے بہت زیادہ گرم مشروب میں شامل نہ کریں۔
- طویل عرصے تک استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
اینفلور ساشے اسہال میں کیسے فائدہ دیتا ہے؟
یہ آنتوں میں مفید جراثیم کو بڑھا کر نقصان دہ جراثیم کو کم کرتا ہے، جس سے اسہال میں آرام آتا ہے۔
کیا اینفلور ساشے بچوں کے لیے محفوظ ہے؟
عام طور پر یہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن بچوں میں استعمال سے پہلے ڈاکٹر کا مشورہ بہتر ہے۔
اینفلور ساشے اینٹی بایوٹک کے ساتھ لیا جا سکتا ہے؟
ہاں، یہ اینٹی بایوٹک کے ساتھ لیا جا سکتا ہے اور ان سے ہونے والے اسہال میں مدد دیتا ہے۔
کیا اینفلور ساشے روزانہ لیا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اینفلور ساشے روزانہ لیا جا سکتا ہے۔
اینفلور ساشے زیادہ مقدار میں لینے سے کیا ہوتا ہے؟
زیادہ مقدار عام طور پر سنگین مسئلہ پیدا نہیں کرتی، مگر پھر بھی احتیاط ضروری ہے۔